تا کہ گزرے ہوئے خواب کی باس کمرے میں ٹھہری رہے
میں نے سانسوں کو مدھم رکھا اور گھر کو قفس کر لیا
Related posts
-
یزدانی جالندھری
ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو چلے تھے گھر سے دریا دیکھنے کو -
-
حمایت علی شاعر
روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم...
