تا کہ گزرے ہوئے خواب کی باس کمرے میں ٹھہری رہے
میں نے سانسوں کو مدھم رکھا اور گھر کو قفس کر لیا
Related posts
-
-
ناظم علی خان ہجر
کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی تم دل میں ہو تو درد ہمارے... -
صفی لکھنوی
دل میں سکت نہ بوند لہو کی جگر ہے نالے کی سادگی کہ فریبِ اثر میں...
